8 جون 2017 - 17:10
تہران پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر حملہ در اصل امام خمینی کی اسلامی فکر پر حملہ

مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی نے ایران میں ہونے والی دہشتگردانہ کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام خمینی کے مزار مقدس اور مجلس شورای اسلامی پر حملہ اصل میں امام خمینی کی اس اسلامی فکر پر حملہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے چئیرمین مفکر اسلام  انجنئیر سید حسین موسوی نے ایران میں ہونے والی دہشتگردانہ کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام خمینی کے مزار مقدس اور مجلس شورای اسلامی پر حملہ اصل میں امام خمینی کی اس اسلامی فکر پر حملہ ہے جو اسلام امریکائی کے خلاف قیام کی دعوت دیتا ہے اور بادشاہتوں سے نجات حاصل کرکے اپنی قسمت کے فیصلے عوام کے حوالے کرتا ہے۔ اس فکر کے تحت مستضعف مسلمان امت اور مظلوم اقوام کا اتحاد ایک اہم سنگ میل ہے۔ انقلاب اسلامی اپنے ابتدائی ظہور سے اب تک اس طرح کے حملوں کے نشانے پر رہا ہے اس لیے یہ حملہ کوئی نئی پیشرفت نہیں ہے۔ دوسری اقوام کے برخلاف تھران کے عوام نے اپنی جان بچا کر بھاگنے سے انکار کیا اور پارلیامینٹ کی جانب بھڑھتی رہی تاکہ سیکیورٹی فورسز کی مدد کی جائے اور دہشتگردوں کے فرار کا راستہ مسدود کیا جائے۔ ایرانی عوام کا یہی شجاعانہ کردار خطہ کے امریکی حمایت یافتہ بادشاہتوں کے لیے پیغام ہے کہ امام خمینی کی فکر کسی بھی طرح کے دباو میں آنے والی فکر نہیں ہے۔ ہم شہدا اور زخمیوں کے لواحقیں کی خدمت میں تہنیت اور تعزیت پیش کرتے ہیں۔ سعودی خاندان کے ذریعے جو امت اسلامی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی شازش اب کھل کر سامنے آرہی ہے اصل میں یہ اسرائیل اور امریکا کے مفادات کے تحفظ کی تحریک ہے۔ پاکستانی ارباب اقتدار کو قطر کے خلاف سعودی خاندان کے اقدامات کے بعد سنجیدگی سے اپنی سعودی خاندان کے تحفظ کی پالیسی کو ترک کرنا پڑیگا اور ملکی تحفظ اور مفادات کے بعد امت اسلامی اور مظلوم ملتوں خاص طور پر مقبوضہ فلسطیں کی حمایت کرنی پڑیگی۔ یہی حرمیں کی حقیقی معنی میں حفاظت ہوگی کیونکہ اس وقت سعودی مفادات اور حرمین شریفین کا تحفظ دو متضاد محاذ بن کر سامنے اگئے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲